مسئلہ ۶۱ : از سرونج مسئولہ عبدالرشید خان صاحب ۱۹ محرم الحرام ۳۱ ھ
جنب مرد یا حیض والی عورت کا ہاتھ سیر بھر پانی یا سیر سے کم میں سہواً یا عمداً ڈوبے تو وہ پانی غسل ووضو کے قابل ہے یا نہیں؟
الجواب:کسی حدثِ اکبر یا اصغر والے کا ہاتھ بغیر دھوئے جب کسی دَہ در دَہ پانی سے کم میں پڑ جائے گا اُس سب کو قابلِ وضو وغسل نہ رکھے گا اور اگر ہاتھ دھو لینے کے بعد پڑا تو کچھ حرج نہیں۔ عورت حیض کی وجہ سے اُس وقت حدث والی ہوگی جب حیض منقطع ہوجائے اس سے پہلے نہ اُسے حدث ہے نہ حکمِ غسل اُس کا ہاتھ پڑنے سے قابلِ وضو وغسل رہے گا واللہ تعالٰی اعلم۔
0 تبصرے